مھدوي تحريڪ
مير الطاف حسين ٽالپر
سنڌ ۾ سما دور حڪومت جي آخري ايامن ۾ ھندوستاني مذھبي فتنن مان ھڪ وڏو فتنو مھدوي تحريڪ جي صورت ۾ سيد ميران محمد جونپوري جي شڪل ۾ ٺٽي ۾ نازل ٿئي ٿو، ھن فتني جي پوئلڳ مُلن ۽ صوفي ڪردارن بعد ۾ ارغونن کي سنڌ تي قابض ٿيڻ جي راه ھموار ڪئي ۽ سنڌ جي آزاد قومي تشخص لاء جدوجھد ڪندڙ دوله درياخان جي پٽن ۽ ٽلٽي جي سھتن ۽ سوڍن کي شھيد ڪرائڻ سان گڏ سندن رھبر ۽ اڳواڻ مخدوم بلاول سمون تي توھين قران جا الزام مڙھي کيس گهاڻي ۾ پيڙائي شھيد ڪرايو.
تاريخ تي نظر ڦيرائبي ته برصغير ۾ مذھبي فتنن جو ڳڙھ به دھلي سرڪار وانگر اتر ھندوستان ئي رھيو آ جتان سوين قسمن جا اسلامي فرقا پيدا ٿيا ۽ ھن پوري خطي کي مذھبي جنونيت جي اڻ کٽ سلسلي ۾ وچڙائي ڇڏين. وري جيڪڏنہن انھن نون نون فرقن ۽ مذھبن جي بانين جا شجرا ۽ نسل ڳوليندا ته سندن قوميت 80 سيڪڙو افغاني پٺاڻ نڪرندا ۽ باقي 20 سيڪڙو به سندن ئي نسل مان پيدا ٿيل پنجابي مسلمان.
ان مھدوي تحريڪ جو باني سيد ميران محمد جونپوري جي حالات زندگي بابت ھي تحري جيڪا ھڪ مذھبي فورم تي پوسٽ جي صورت ۾ نظر آئي سنڌ جي تاريخ سان دلچسبي رکندڙ دوستن جي خدمت ۾ پيش ڪجي ٿي.
سنڌ ۾ سما دور حڪومت جي آخري ايامن ۾ ھندوستاني مذھبي فتنن مان ھڪ وڏو فتنو مھدوي تحريڪ جي صورت ۾ سيد ميران محمد جونپوري جي شڪل ۾ ٺٽي ۾ نازل ٿئي ٿو، ھن فتني جي پوئلڳ مُلن ۽ صوفي ڪردارن بعد ۾ ارغونن کي سنڌ تي قابض ٿيڻ جي راه ھموار ڪئي ۽ سنڌ جي آزاد قومي تشخص لاء جدوجھد ڪندڙ دوله درياخان جي پٽن ۽ ٽلٽي جي سھتن ۽ سوڍن کي شھيد ڪرائڻ سان گڏ سندن رھبر ۽ اڳواڻ مخدوم بلاول سمون تي توھين قران جا الزام مڙھي کيس گهاڻي ۾ پيڙائي شھيد ڪرايو.
تاريخ تي نظر ڦيرائبي ته برصغير ۾ مذھبي فتنن جو ڳڙھ به دھلي سرڪار وانگر اتر ھندوستان ئي رھيو آ جتان سوين قسمن جا اسلامي فرقا پيدا ٿيا ۽ ھن پوري خطي کي مذھبي جنونيت جي اڻ کٽ سلسلي ۾ وچڙائي ڇڏين. وري جيڪڏنہن انھن نون نون فرقن ۽ مذھبن جي بانين جا شجرا ۽ نسل ڳوليندا ته سندن قوميت 80 سيڪڙو افغاني پٺاڻ نڪرندا ۽ باقي 20 سيڪڙو به سندن ئي نسل مان پيدا ٿيل پنجابي مسلمان.
ان مھدوي تحريڪ جو باني سيد ميران محمد جونپوري جي حالات زندگي بابت ھي تحري جيڪا ھڪ مذھبي فورم تي پوسٽ جي صورت ۾ نظر آئي سنڌ جي تاريخ سان دلچسبي رکندڙ دوستن جي خدمت ۾ پيش ڪجي ٿي.
سيد محمد
جونپوری سلطان محمود شرقی ( 1440ء۔1457ء) کے عہد میں سوموار 14/جمادی الاولیٰ 842ھ
مطابق 9/ ستمبر 1443ھ جو نپور میں پیدا ہوئے ،ان کے والد بزرگوار کا نام سید خال
اور والدہ محترمہ کا نام بی بی آخا تھا جو بعد میں ان کے مریدوں نے بدل کر ظہور
مہدی کے روایات کے مطابق سید عبد اللہ اور بی بی آمنہ کر لیا تھا۔
شجرہ نسب
سید عبد اللہ بن عثمان بن موسیٰ بن قاسم بن نجم الدین بن عبد اللہ بن یو سف بن یحییٰ بن نعمت اللہ بن اسماعیل بن موسیٰ کا ظم بن جعفر صادقؒ بن محمد بن باقر ؒبن علی بن زین العابدین بن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ بن حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہ
سید محمد جب چار سال چار دن کے ہوئے تو ان کے والد نے ان کو بڑے بھائی سید احمد کے ساتھ شیخ دانیال خضری جو نپوریؒ کی شاگردی میں دے دیا۔
آپ بچپن ہی سے بڑے ہو نہار اور بلا ذہین تھے ۔ انہوں نے سات سال کی عمر میں حفظ قرآن اور بارہ سال کی عمر میں تمام علوم ظاہری کی تحصیل مکمل کر لی تھی ۔ان کی وسیع معلومات ، کثرت مطالعہ اور غیر معمولی ذہانت سے بڑے بڑے علماء دنگ رہ جاتے اسی بناء پر انہیں اسد العلماٰ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔
مہدویوں کے علاوہ معاصرین اور متاخرین علما وصوفیاء نے بھی ان کی علمی استعداد اور قابلیت اور زہد وتقویٰ کی تعریف کی ہے ۔ مولانا عبد القادر بدایونی لکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان کی قابلیت اور خوبیوں سے انکار نہیں کر سکتا ۔ مولنا جمال الدین ،علامہ ابو الفضل میاں ،حاتم سنبھلی اور شیخ علی متقی جیسے علماءئے نا مدار نے بھی ان کی علمی قابلیت اور زہد وورع کی تعریف کی ہے اور ان کی بزرگی تسلیم کی ہے ۔
مہدوی کتابوں میں لکھا ہے کہ ان کو بہت چھوٹی عمر ہی میں یہ روحانی اشارے ہوا کرتے تھے کہ وہ ''مہدی آخرا لزماں'' ہوں گے اور یہ بھی کہ خواجہ خضر علیہ السلام ان کو غائبانہ طور پر روحانی تعلیم دیا کرتے تھے انہوں نے ان کو ذکر خافی بھی سکھایا تھا جس کا وظیفہ وہ کھوکھر کی مسجد جونپور میں دریائے گو متی کے کنارے کیا کرتے تھے ۔
سید محمد جو نپوری نے تعلیم سے فارغ ہو کر چھوٹی عمر ہی میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کر دیا اور ان کے درس میں بے شمار طلباء اور عقیدتمندوں کا جمگھٹا لگا رہتا ۔ان کے درس میں امیر وغریب ہر سطح کے لوگ شامل ہو تے ۔ ان میں سے ایک سلطان حسین شرقی والی جونپور بھی تھے وہ ان کے علم ومعرفت کے بڑے گر ویدہ تھے اور ان سے اپنی وابستگی کا اظہار فخر سے کیا کرتے تھے ۔
جب سید محمد چالیس سال کے ہوئے تو سلطان حسین شرقی کے کئی بار درخواست کر نے کے با وجود 887ھ/ 1482ء میں جونپور سے ہجرت کر گئے تا کہ وہ ملک کے دوسرے علاقوں میں جا کر تبلیغ کریں اس سفر میں ان کے ہمراہ ان کی زوجہ محترمہ اللہ دی بیٹے سید محمود ، خلیفہ میاں شاہ دلاور اور شیخ بھیک اور بہت سے دوسرے احباب بھی تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ دانا پور ( عظیم آباد، پٹنہ) پہنچے تو ان کی زوجہ محترمہ ، بیٹے سید محمود اور خلیفہ شاہ دلاور کو روحانی اشارہ ہوا کہ وہ مہدی ہیں اور اپنے مہدی ہو نے کا اعلان کردیں ۔انہوں نے خود بھی اس اشارے کی تصدیق تو کی مگر فر مایا کہ اس حقیقت کا اعلان ہم خدا کے حکم سے ایک معینہ وقت پر کریں گے ۔ دانا پور سے پھر وہ کالپی وچندیری ہو تے ہوئے ما نڈو پہنچے ۔وہاں کے بے شمار لوگ ان کے پاکیزہ اخلاق، سنت نبوی کی اتباع اور مواعظ حسنہ سے ہدایت یاب ہوئے ۔سلطان غیاث الدین خلجی ( 1469 ۔ 515ء) والی مالوہ کو جب ان کے علم ومعرفت کی خبر ہوئی تو اس نے بھی ان کی زیارت کی خواہش کی لیکن اس وقت اپنے بیٹے نصیر الدین ( 1500۔1511ء) کے زیر حراست تھا ۔اس لئے اپنی حسرت کو پورا نہ کر سکا ۔ تاہم اس نے ان کی پیغام بھیجوایا کہ وہ اپنے چند مریدوں کو میرے پاس ضرور بھیجیں تاکہ میں ان سے مستفید ہو سکوں ۔اس پر انہوں نے اپنے دو مریدوں سید سلام اللہ اور میاں ابو بکر کو اس کے پاس بھیجا ۔ سلطان غیاث الدین خلجی نے ان پر سونے اور چاندی کے سکوں کی بارش کر دی اور ان سے سید محمد جو نپوری کے متعلق بڑی تفصیل سے دریافت فر مایا ۔ان کے جوابات سے وہ بڑا متاثر ہوا اور ان کے مہدی آخر الزماں ہو نے پر ایمان لے آیا ۔اس نے ان کو بطور فتوح کے بہت سے مال وزر نذر کیا لیکن انہوں نے ان کی طرف نگاہ تک نہ کی اور خود رکھنے یا مریدوں میں تقسیم کرنے کے بجائے اس کو سلطان کے ملازموں ہی میں بانٹ دیا ۔جب لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ انہوں نے اس رقم کو کیوں قبول نہیں کیا تو فر مایا کہ میرے مرید اور ارادتمند کسی دنیاوی مال ومتاع کے لالچ کے بغیر خدائے برحق کی تلاش میں ہیں اور انہیں ایسی چیزوں کی ضرورت نہیں. اس موقع پر سلطان غیاث الدین خلجی کے خاص امراء میں سے ایک میاں الہداد حمید بھی ان کے حلقہ ادارت میں شامل ہو گئے ۔وہ بڑے پایہ کے عالم ، عمدہ شاعر اور بلند پایہ مصنف تھے اور بڑی شہرت کے مالک تھے ۔بعد میں وہ مہدویوں کے خلیفہ ششم ہوئے ۔ان کی کثیر التعداد تصنیفات ہیں جن میں سے مرثیہ مہدی موعود ،ایک دیوان ،رسالہ بار امانت اور رسالہ در ثبوت مہدیت بڑی مشہور ہیں ۔ان کی ان تصنیفات سے مہدوی تحریک کو بھی بڑی تقویت اور شہرت حاصل ہوئی ان کے ایک قابل قدر شاگرد ابن خواجہ طہ صاحب دیوانِ مہری بھی بڑے قابل قدر انسان تھے ۔
اس کے بعد سید محمد نے 888ھ مطابق 1484ء میں جاپنایز پہنچ کر وہاں کی جامع مسجد میں ڈیرے جمادیے ۔وہاں بے شمار لوگ ان کی وعظ وتلقین سننے آتے تھے ۔ان میں سے ایک سلطان محمود بیگڑہ ( 1511ھ) بھی تھے وہ ان سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے بھی ان سے ذاتی طور پر ملاقات کی خواہش کی مگر بعض امراء نے ان کی ملاقات کو مصلحت حکومت کے خلاف سمجھا ۔۔۔ سید محمد وہاں ڈیڑھ سال رہے ۔اور اس دوران میں ہزاروں لوگ ان سے مستفیض ہوئے ۔اسی جگہ ان کی اہلیہ وفات پا گئیں اور وہیں قلعہ میں دفن ہوئیں۔
سید عبد اللہ بن عثمان بن موسیٰ بن قاسم بن نجم الدین بن عبد اللہ بن یو سف بن یحییٰ بن نعمت اللہ بن اسماعیل بن موسیٰ کا ظم بن جعفر صادقؒ بن محمد بن باقر ؒبن علی بن زین العابدین بن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ بن حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہ
سید محمد جب چار سال چار دن کے ہوئے تو ان کے والد نے ان کو بڑے بھائی سید احمد کے ساتھ شیخ دانیال خضری جو نپوریؒ کی شاگردی میں دے دیا۔
آپ بچپن ہی سے بڑے ہو نہار اور بلا ذہین تھے ۔ انہوں نے سات سال کی عمر میں حفظ قرآن اور بارہ سال کی عمر میں تمام علوم ظاہری کی تحصیل مکمل کر لی تھی ۔ان کی وسیع معلومات ، کثرت مطالعہ اور غیر معمولی ذہانت سے بڑے بڑے علماء دنگ رہ جاتے اسی بناء پر انہیں اسد العلماٰ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔
مہدویوں کے علاوہ معاصرین اور متاخرین علما وصوفیاء نے بھی ان کی علمی استعداد اور قابلیت اور زہد وتقویٰ کی تعریف کی ہے ۔ مولانا عبد القادر بدایونی لکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان کی قابلیت اور خوبیوں سے انکار نہیں کر سکتا ۔ مولنا جمال الدین ،علامہ ابو الفضل میاں ،حاتم سنبھلی اور شیخ علی متقی جیسے علماءئے نا مدار نے بھی ان کی علمی قابلیت اور زہد وورع کی تعریف کی ہے اور ان کی بزرگی تسلیم کی ہے ۔
مہدوی کتابوں میں لکھا ہے کہ ان کو بہت چھوٹی عمر ہی میں یہ روحانی اشارے ہوا کرتے تھے کہ وہ ''مہدی آخرا لزماں'' ہوں گے اور یہ بھی کہ خواجہ خضر علیہ السلام ان کو غائبانہ طور پر روحانی تعلیم دیا کرتے تھے انہوں نے ان کو ذکر خافی بھی سکھایا تھا جس کا وظیفہ وہ کھوکھر کی مسجد جونپور میں دریائے گو متی کے کنارے کیا کرتے تھے ۔
سید محمد جو نپوری نے تعلیم سے فارغ ہو کر چھوٹی عمر ہی میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کر دیا اور ان کے درس میں بے شمار طلباء اور عقیدتمندوں کا جمگھٹا لگا رہتا ۔ان کے درس میں امیر وغریب ہر سطح کے لوگ شامل ہو تے ۔ ان میں سے ایک سلطان حسین شرقی والی جونپور بھی تھے وہ ان کے علم ومعرفت کے بڑے گر ویدہ تھے اور ان سے اپنی وابستگی کا اظہار فخر سے کیا کرتے تھے ۔
جب سید محمد چالیس سال کے ہوئے تو سلطان حسین شرقی کے کئی بار درخواست کر نے کے با وجود 887ھ/ 1482ء میں جونپور سے ہجرت کر گئے تا کہ وہ ملک کے دوسرے علاقوں میں جا کر تبلیغ کریں اس سفر میں ان کے ہمراہ ان کی زوجہ محترمہ اللہ دی بیٹے سید محمود ، خلیفہ میاں شاہ دلاور اور شیخ بھیک اور بہت سے دوسرے احباب بھی تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ دانا پور ( عظیم آباد، پٹنہ) پہنچے تو ان کی زوجہ محترمہ ، بیٹے سید محمود اور خلیفہ شاہ دلاور کو روحانی اشارہ ہوا کہ وہ مہدی ہیں اور اپنے مہدی ہو نے کا اعلان کردیں ۔انہوں نے خود بھی اس اشارے کی تصدیق تو کی مگر فر مایا کہ اس حقیقت کا اعلان ہم خدا کے حکم سے ایک معینہ وقت پر کریں گے ۔ دانا پور سے پھر وہ کالپی وچندیری ہو تے ہوئے ما نڈو پہنچے ۔وہاں کے بے شمار لوگ ان کے پاکیزہ اخلاق، سنت نبوی کی اتباع اور مواعظ حسنہ سے ہدایت یاب ہوئے ۔سلطان غیاث الدین خلجی ( 1469 ۔ 515ء) والی مالوہ کو جب ان کے علم ومعرفت کی خبر ہوئی تو اس نے بھی ان کی زیارت کی خواہش کی لیکن اس وقت اپنے بیٹے نصیر الدین ( 1500۔1511ء) کے زیر حراست تھا ۔اس لئے اپنی حسرت کو پورا نہ کر سکا ۔ تاہم اس نے ان کی پیغام بھیجوایا کہ وہ اپنے چند مریدوں کو میرے پاس ضرور بھیجیں تاکہ میں ان سے مستفید ہو سکوں ۔اس پر انہوں نے اپنے دو مریدوں سید سلام اللہ اور میاں ابو بکر کو اس کے پاس بھیجا ۔ سلطان غیاث الدین خلجی نے ان پر سونے اور چاندی کے سکوں کی بارش کر دی اور ان سے سید محمد جو نپوری کے متعلق بڑی تفصیل سے دریافت فر مایا ۔ان کے جوابات سے وہ بڑا متاثر ہوا اور ان کے مہدی آخر الزماں ہو نے پر ایمان لے آیا ۔اس نے ان کو بطور فتوح کے بہت سے مال وزر نذر کیا لیکن انہوں نے ان کی طرف نگاہ تک نہ کی اور خود رکھنے یا مریدوں میں تقسیم کرنے کے بجائے اس کو سلطان کے ملازموں ہی میں بانٹ دیا ۔جب لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ انہوں نے اس رقم کو کیوں قبول نہیں کیا تو فر مایا کہ میرے مرید اور ارادتمند کسی دنیاوی مال ومتاع کے لالچ کے بغیر خدائے برحق کی تلاش میں ہیں اور انہیں ایسی چیزوں کی ضرورت نہیں. اس موقع پر سلطان غیاث الدین خلجی کے خاص امراء میں سے ایک میاں الہداد حمید بھی ان کے حلقہ ادارت میں شامل ہو گئے ۔وہ بڑے پایہ کے عالم ، عمدہ شاعر اور بلند پایہ مصنف تھے اور بڑی شہرت کے مالک تھے ۔بعد میں وہ مہدویوں کے خلیفہ ششم ہوئے ۔ان کی کثیر التعداد تصنیفات ہیں جن میں سے مرثیہ مہدی موعود ،ایک دیوان ،رسالہ بار امانت اور رسالہ در ثبوت مہدیت بڑی مشہور ہیں ۔ان کی ان تصنیفات سے مہدوی تحریک کو بھی بڑی تقویت اور شہرت حاصل ہوئی ان کے ایک قابل قدر شاگرد ابن خواجہ طہ صاحب دیوانِ مہری بھی بڑے قابل قدر انسان تھے ۔
اس کے بعد سید محمد نے 888ھ مطابق 1484ء میں جاپنایز پہنچ کر وہاں کی جامع مسجد میں ڈیرے جمادیے ۔وہاں بے شمار لوگ ان کی وعظ وتلقین سننے آتے تھے ۔ان میں سے ایک سلطان محمود بیگڑہ ( 1511ھ) بھی تھے وہ ان سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے بھی ان سے ذاتی طور پر ملاقات کی خواہش کی مگر بعض امراء نے ان کی ملاقات کو مصلحت حکومت کے خلاف سمجھا ۔۔۔ سید محمد وہاں ڈیڑھ سال رہے ۔اور اس دوران میں ہزاروں لوگ ان سے مستفیض ہوئے ۔اسی جگہ ان کی اہلیہ وفات پا گئیں اور وہیں قلعہ میں دفن ہوئیں۔
وہاں سے
پھر وہ برہان پور ہوتے ہوئے دو لت آباد پہمچے اور اس جگہ کے صوفیا کے مزارات کی
زیادت کی ۔پھر وہ احمد نگر پہنچےان دونوں وہاں ملک احمد نظام شاہ اول ( 1490ح
مطابق 1508ء ) کی حکومت تھی وہ بھی ان گر ویدہ ہو گیا اور اس نے ان سے بیٹے کی
ولادت کے لئے دعا کی خواہش کی ۔ چنانچہ ان کو اللہ تعالیٰ نے بیٹا عطا فر مایا جس
کا نام بر ہان نظام رکھا ۔ بعد میں وہ سات برس کی عمر میں سلطان برہان نظام شاہ
اول کے نام سے ( 1808۔ 1553ء ) سلطنت کا وارث ہوا ۔
احمد نگر سے پھر وہ بیدر پہنچے وہاں ان دنوں ملک قاسم برید کی حکومت تھی اور وہاں بھی بے شمار ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے ۔
احمد نگر سے گلبرگہ گئے اور وہاں سید محمد گیسو دراز بندہ نواز کے مزار کی زیارت کی ۔
اس سفر کے بعد اپنے 360 پیروکاروں کے ساتھ 901ھ میں بندر گاہ ابھول سے بحری جہاز میں مکہ معظمہ چلے گئے جہاں طواف کعبہ کے بعد رکن یمانی اور مقام ابرا ہیم کے در میان 901 ھ 1495 ۔1494ء میں کھلم کھلا اپنے مہدی ہو نے کا اعلان کیا ۔تاریخ مہدوی کے مطابق یہ ان کے مہدی ہو نے کا سب سے پہلا اعلان اور دعویٰ سمجھا جاتا ہے ۔اس کے بعد وہ چند ماہ مزید مکہ معظمہ میں رہے مگر مدینہ منورہ میں حاضری دیئے بغیر ہندوستان چلے آئے ۔
مختلف شہروں اور ملکوں کا سفر کرتے ہوئے قندھار سے فرہ پہونچے اور 63سال کی عمر میں بروز سوموار 19 ذی قعدہ 910ح مطابق 23اپریل 1504 میں یہیں انتقال ہوا ۔کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر ان کے خلیفہ میاں الہداد نے ان کی قبر پر ایک بڑا درد ناک مرثیہ پڑھا تھا ۔ان کی وفات کے بعد ان کے بہت سے مرید واپس ہندوستان چلے آئے تھے اور جو تھوڑے بہت فرہ میں رہے ،ان میں سے ایک شیخ محمد فرا ہی تھے جنہوں نے بعد میں اپنے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا تھا ۔
احمد نگر سے پھر وہ بیدر پہنچے وہاں ان دنوں ملک قاسم برید کی حکومت تھی اور وہاں بھی بے شمار ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے ۔
احمد نگر سے گلبرگہ گئے اور وہاں سید محمد گیسو دراز بندہ نواز کے مزار کی زیارت کی ۔
اس سفر کے بعد اپنے 360 پیروکاروں کے ساتھ 901ھ میں بندر گاہ ابھول سے بحری جہاز میں مکہ معظمہ چلے گئے جہاں طواف کعبہ کے بعد رکن یمانی اور مقام ابرا ہیم کے در میان 901 ھ 1495 ۔1494ء میں کھلم کھلا اپنے مہدی ہو نے کا اعلان کیا ۔تاریخ مہدوی کے مطابق یہ ان کے مہدی ہو نے کا سب سے پہلا اعلان اور دعویٰ سمجھا جاتا ہے ۔اس کے بعد وہ چند ماہ مزید مکہ معظمہ میں رہے مگر مدینہ منورہ میں حاضری دیئے بغیر ہندوستان چلے آئے ۔
مختلف شہروں اور ملکوں کا سفر کرتے ہوئے قندھار سے فرہ پہونچے اور 63سال کی عمر میں بروز سوموار 19 ذی قعدہ 910ح مطابق 23اپریل 1504 میں یہیں انتقال ہوا ۔کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر ان کے خلیفہ میاں الہداد نے ان کی قبر پر ایک بڑا درد ناک مرثیہ پڑھا تھا ۔ان کی وفات کے بعد ان کے بہت سے مرید واپس ہندوستان چلے آئے تھے اور جو تھوڑے بہت فرہ میں رہے ،ان میں سے ایک شیخ محمد فرا ہی تھے جنہوں نے بعد میں اپنے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا تھا ۔

1 Comments
منهنجي تحريرن کي پنهنجي بلاگ ۾ شايع ڪرڻ تي مان اوهان جو ٿورائتو آهيان سائين. ��
ReplyDelete